Saturday, 14 October 2017

آدم خور شیرنی کو مارنے کا حکم برقرار


Web monitoring Desk:

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی ایک عدالت نے اس آدم خور شیرنی کو مارنے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جو چار افراد کی ہلاکت کی ذمہ دار ہے۔
دو سالہ آدم خور شیرنی کو قتل کرنے کے احکامات ریاست کے محکمہ جنگلات نے 23 جون کو جاری کیے تھے اور انھیں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے کارکنان نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
شیرنی نے تیندوے کے بچے کو گود لے لیا
انڈیا کی آدم خور شیرنی کو مار دیا گیا
اس شیرنی کو پہلی بار 22 جولائی کو اس وقت پکڑا گیا جب اس نے مہاراشٹر کے دیہی علاقے براہم پوری میں دو افراد کو مار ڈالا تھا اور چار کو زخمی کر دیا تھا۔
اس وقت شیرنی کو شیروں کے لیے مخصوص علاقے بور میں کھلا چھوڑ دیا تھا لیکن اس کے بعد اس نے مزید دو افراد کو مار ڈالا۔
ڈاکٹر جریل بنائت جھنوں نے شیرنی کے قتل کے حکم کی مذمت کی تھی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف انڈیا کی سپریم کورٹ میں جائیں گے۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان کا کہنا ہے شیرنی کو بے ہوش کر کے کسی دوسرے مقام پرمنقتل کیا جانا چاہیے مگر اس علاقے کے مکین اس صورتحال کی وجہ سے بہت خوفزدہ ہیں۔
محکمہ جنگلات کے افسران جو کہ اس کالا نامی شیرنی کا پیچھا کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں 29 جولائی کو داخل ہونے کے بعد سے اب تک 500 کلومیٹر سے زیادہ کا راستہ عبور کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ دنیا کے 60 فیصد شیر انڈیا میں بستے ہیں۔ لیکن ان کی یہ پناہ گاہیں چوری چھپے شکار کرنے والوں کی وجہ سےخطرے سے دوچار ہیں۔ روایتی چینی ادویات میں ان کے جسم کے مختلف اعضا کو استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک وجہ بڑھتی ہوئی آبادیاں بھی ہیں جو اب ان کی پناہ گاہوں کے قریب پہنچ چکی ہیں اور یہ جنگلی جانور خوراک کی طلب میں ان کا رخ کرتے ہیں۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ شیروں کی ہلاکت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ سنہ 2014 میں 78 جبکہ سنہ 2015 میں 80 شیروں کی ہلاکت ہوئی۔

معیشت کے بیان پر تنازع: ’دانستہ پالیسی کے تحت افراتفری پیدا کی جا رہی ہے‘




Agencies:

پاکستان میں ان دنوں فوج اور سول حکومت کے درمیان تناؤ کی ایک وجہ ملک کی معاشی صورتحال بنی ہوئی ہے جس کا
آغاز بّری فوج کے سربراہ کے ایک سیمینار میں معیشت پر بیان سے ہوا۔
معیشت پر بیانات کے تبادلے میں نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ سنیچر کو اس معاملے پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور کو ایک پریس کانفرنس میں اس پر بات کرنا پڑی۔
بظاہر تو اس پریس کانفرنس کا موضوع اور تھا لیکن تاثر یہ ملتا ہے کہ اس کا مقصد وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے اُس بیان کا جواب دینا تھا جس میں انھوں نے فوج کی طرف سے معیشت کے بارے میں بیان پر خفگی کا اظہار کیا تھا۔
٭ ’خطرہ فوج سے نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے ہے‘
٭ ’فوج کے ترجمان معیشت پر بیان بازی سے گریز کریں‘
٭ ’ترقی تو ہے لیکن قرضے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں‘
فوج کے ترجمان نے یہ باور کراتے ہوئے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں مسلح افواج کی طرف سے کہتے ہیں، کہا کہ انھیں وزیر داخلہ کے بیان پر بحیثیت عام شہری اور فوجی افسوس ہوا۔
میجر جنرل آصف غفور وزیر داخلہ کے بیان کا جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہو کر آئے تھے۔
انھوں نے نہ صرف اپنے انٹرویو کی ریکارڈنگ ذرائع ابلاع کے نمائندوں کو سنوائی جس میں انھوں نے ملکی معیشت پر اظہار خیال کیا تھا بلکہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے خطاب کے بھی سیاق و سباق کی وضاحت کی۔
فوج کے ترجمان نے اس پریس کانفرنس میں ملکی معیشت پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے گذشتہ سال کی ٹیکس وصولیوں کے بھی اعداد و شمار رکھ دیے۔ ان اعداد و شمار کو پیش کر کے واضح طور پر انھوں نے کہا کہ ان کو بہتر کیا جانا بہت ضروری ہے۔
ملک میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے۔ ملک کے وزیر خزانہ اپنے خلاف بدعنوانی اور کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس ماحول میں سول حکومت اور فوج کے تعلقات میں بدمزگی کے بارے میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے اقتصادی اور معاشی حالات کا مستحکم ہونا بڑا ضروری ہے۔
'لیکن اس قسم کی بیان بازی اور خاص کر عوام میں جا کر ایسا کرنا ایک نیا رجحان ہے اور یہ عکاسی کرتا ہے کہ ریاست کے دونوں اداروں میں کس قسم کی کشیدگی اور تعلقات ہیں اور یہ صورتحال بہت افسوس ناک اور خطرناک ہے۔'
طلعت مسعود نے کہا کہ اگر کسی رائے کا اظہار کیا جانا ہے تو اس کے لیے نیشنل سکیورٹی کونسل سمیت مختلف فورم موجود ہیں تاکہ کسی بات پر اتفاق رائے قائم ہو سکے۔
'اس کے بجائے عوام میں جا کر اس قسم کے بیانات دینے سے ریاست کمزور ہو رہی ہے اور ہمارا ملک ایک مذاق بن گیا ہے۔'
تاہم تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں کسی بحران کی صورتحال ہو تو ہر پاکستانی اور ادارے کو اس پر بات کرنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنرل باجوہ اور فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ملک کی معاشی صورتحال پر فوج کا موقف دیا ہے اور اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔
ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق 'فوج کا مقصد ہرگز نہیں کہ وہ پالیسیز پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں بلکہ وہ صرف اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس وقت ملک کو درپیش مسائل میں ایک اہم مسئلہ معیشت کا ہے اور موجودہ حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔'
ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو: آئی ایس پی آر
ڈاکٹر مہدی حسن نے سول حکومت اور فوج کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'اس وقت کشیدگی ضرور موجود ہے کیونکہ موجودہ حکومت بھی نواز شریف کی حکومت کا ہی تسلسل ہے جس میں ہمارے وزیراعظم نواز شریف سے رائے لیتے ہیں اور ان کی پالیسی پر چلتے ہیں۔'
'سابق حکمران خاندان کی جانب سے جس طرح سے سپریم کورٹ پر براہ راست اور فوج پر بلواسطہ تنقید کر رہے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور وہ بلواسطہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ فوج کے دباؤ میں یا کہنے پر دیا گیا گیا ہے۔'

جوڈیشل کمپلیکس میں رینجرز کی تعیناتی پر سول حکومت نے رینجرز حکام سے جواب طلب کیا تھا
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے ڈاکٹر مہدی حسن کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ نون کی قیادت جنھجلاہٹ کا شکار ہے اور اس طرح کے بیانات دے رہی ہے تاکہ افراتفری پیدا ہو۔
’مجھے لگتا ہے کہ ایک دانستہ پالیسی کے تحت اس قسم کے بیانات دیے جائیں تاکہ افراتفری پیدا ہو اور یہ تاثر دیا جائے گا کہ مسائل ہماری وجہ سے نہیں بلکہ ریاستی اداروں سپریم کورٹ یا فوج کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ دونوں جانب سے اس قسم کے بیانات سے نقصان ہو رہا ہے اور عوام بھی پریشان ہیں کہ معاملات خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
'اس سے کیا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اس میں کسی ادارے کی بلادستی نہیں بنتی ہے جس میں اگر ملک کمزور ہو جائے لیکن ایک ادارہ یا دوسرا ادارہ مضبوط ہو جائے تو اس کا فائدہ کیا ہے۔'